پشاور ہائیکورٹ نے ہزارہ موٹروے کی خستہ حالی اور اس پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی روک تھام سے متعلق دائر رٹ پٹیشن پر چیئرمین این ایچ اے ، سیکرٹری کمیونیکشن، فنانس ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس صادق علی مہمند پر مشتمل دو رکنی بنچ نے امجد حسن تنولی ایڈوکیٹ کی رٹ کی سماعت کی ۔دوران سماعت درخواست گزار وکیل امجد حسن تنولی ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ وہ مانسہرہ کے رہائشی ہیں اور ہر ہفتہ ہزارہ موٹروے پر سفر کرتے ہیں تاہم اس وقت موٹروے کی تعمیر میں غیرمعیاری میٹریل کے استعمال کے ساتھ ساتھ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات ہورہے ہیں جس سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں متعلقہ حکام نے مکمل آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ایسے غیرمعیاری تعمیرات کی وجہ سے حادثات رونما ہورہے ہیں جو کہ پہلے نہیں ہوتے تھے کیونکہ اس موٹروے میں بعض چیزوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے غیرمعیاری کام کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ہے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ موٹروے اور ہائی وے ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر اپ اس کو بھی کمزور کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہوگی اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے آنے والے ناران اور کاغان کی سیاحوں کے لئے رسائی کا سب سے بڑا زریعہ ہے ایسے حادثات سے سیاحت بھی متاثر ہوگی انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد جنہوں نے یہ غیر معیاری کام کیا ہے ان کے خلاف کاروائی کی جائے اور فوری طور پر اس کی مرمت پر کام شروع کیا جائے عدالت نے دلائل سننے کے بعد متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلی۔







