فیفا ورلڈکپ میں شدید گرمی کھلاڑیوں کیلئے بڑا چیلنج بن گئی

موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں ہونے والے عالمی کپ کے تقریبا 25 فیصد میچز شدید گرمی کے دوران کھیلے جا سکتے ہیں جس سے کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور میکسیکو کے کئی شہر جیسے ڈلاس، ہیوسٹن، میامی اور دیگر مقامات میں گرمی کی شدت زیادہ ہے، ان علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت اوسطا 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے تاہم کچھ اسٹیڈیمز میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود ہے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق گرمی، نمی، سورج کی تیز شعاعیں اور ہوا کی کمی سے کھلاڑیوں میں تھکن، پانی کی کمی اور پٹھوں میں کھنچا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ تقریبا 26 میچز ایسے حالات میں ہو سکتے ہیں جہاں جسمانی دبا خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ چند میچز انتہائی شدید گرمی کے خطرناک زون میں ہوں گے۔ اسپورٹس فزیو پرفارمنس ماہرین کے مطابق عالمی سطح کے کھلاڑی ایسے حالات کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ وہ مختلف موسموں میں تربیت حاصل کرتے ہیں تاہم مسلسل شدید گرمی پھر بھی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔کچھ ممالک کے کھلاڑی جو پہلے ہی گرم علاقوں میں تربیت کرتے ہیں انہیں نسبتا فائدہ ہو سکتا ہے۔موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب تیاری اور جسمانی مطابقت پیدا کر کے گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔فیفا نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جن میں ہر ہاف میں مختصر وقفے، پانی پینے کے اضافی مواقع، کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے ٹھنڈک کے انتظامات اور طبی سہولتوں کو بہتر بنانا شامل ہے۔ بعض میچز کے اوقات بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں۔موسمیاتی ماہرین کا مجموعی طور پر کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی کپ روایتی طور پر موسمِ گرما میں منعقد ہوتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث آئندہ ٹورنامنٹ میں گرمی ایک اہم اور فیصلہ کن عنصر بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed