مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس لئے بڑھاتی ہے تاکہ عوام اس کا استعمال کم سے کم کرے، کیونکہ ملک کے پاس امپورٹ بل ادا کرنے کے لیے ڈالرز موجود نہیں ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اس لیے بڑھاتی ہے تاکہ عوام اس کا استعمال کم کرے، اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی تو ملک میں ایندھن کی کھپت اسی سطح پر برقرار رہے گی، جو موجودہ معاشی حالات میں ملک کے لیے نقصان دہ ہے، جب بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 10 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوتا ہے، تو پاکستان کا امپورٹ بل یکمشت 2 ارب ڈالر بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت اتنے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر موجود نہیں ہیں کہ ہم اس بھاری امپورٹ بل کو پورا کرسکیں، اسی لیے اگر قیمتیں نہ بڑھائی گئیں، تو امپورٹ بل ڈالر کی کمی کی وجہ سے مزید اوپر چلا جائے گا اور ملک معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا۔







