پشاورہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات کے التوا اور وکلا کو بقایاجات کی بنیاد پر ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں پر مختصر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت نے کبھی بھی انتخابی عمل معطل کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی۔عدالت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق درخواست گزار وکیل کی جانب سے ایک ضمنی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے ساتھ خیبر پختونخوا بارکونسل کی 30 اپریل کی ایک مبینہ پریس ریلیز بھی منسلک کی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ پریس ریلیز میں عدالت کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے بار انتخابات روکنے کا تاثر دیا گیا۔پشاور ہائیکورٹ نے اپنے مختصر تحریری حکم نامے میں اس تاثر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت نے کبھی بھی بار انتخابات یا انتخابی عمل معطل کرنے کا حکم نہیں دیا۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا بار کونسل کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست عدالت میں پیش کی گئی، جس پر مزید سماعت 4 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔دوران سماعت درخواست گزار وکیل محمد یاسر خٹک اور خیبر پختونخوا بار کونسل کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق خیبر پختونخوا بار کونسل نے وکلا کی بقایاجات سے متعلق ترمیم کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں وکلا حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ ان کا مقف تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اس ترمیم سے متعلق بار کونسل کا اعلامیہ معطل کرتے ہوئے پرانی فہرست کے مطابق انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم بار کونسل نے دوبارہ انتخابات ملتوی کرتے ہوئے عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد انتخابی عمل کرانے کا فیصلہ کیا۔







