ادویاتی پودوں کے ماہرین نے نان ٹمبر فاریسٹ پراڈکٹس (این ٹی ایف پی) سیکٹر کی ترقی کو جنگلاتی برادریوں کے لیے متبادل روزگار اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں کمی کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے پشاور میں ہربل مارکیٹ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی سطح پر ادویاتی پودوں کے جمع کنندگان کو اپنی مصنوعات کی براہِ راست فروخت کا پلیٹ فارم میسر آسکے۔یہ مطالبہ ڈائریکٹوریٹ آف این ٹی ایف پی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ “فارسٹ سے مارکیٹ تک: خیبر پختونخوا میں این ٹی ایف پیز کی ویلیو ایڈیشن” کے دوران کیا گیا۔ ورکشاپ میں محکمہ جنگلات کے حکام، ماہرین، صنعتکاروں اور تاجروں نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر این ٹی ایف پی راشد حسین نے کہا کہ محکمہ جنگلات صوبے میں ادویاتی و خوشبودار پودوں کے تحفظ، ترقی، ویلیو چین اور مارکیٹ روابط کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کررہا ہے۔ ماہرِ نباتات ڈاکٹر اکرام الرحمان نے کہا کہ این ٹی ایف پیز میں لکڑی کے علاوہ جنگلات سے حاصل ہونے والی تمام حیاتیاتی مصنوعات شامل ہیں جن کے پائیدار استعمال، سائنسی جمع آوری، پروسیسنگ، آرگینک سرٹیفکیشن اور عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے مؤثر پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ہمدرد لیبارٹریز کے نمائندوں نے بتایا کہ ادارہ مقامی کمیونٹی کو ادویاتی پودوں کی کاشت، تربیت، بیج اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کیلئے تعاون کرے گا، جبکہ کنزرویٹر فاریسٹ ملاکنڈ ایسٹ سرکل عابد ممتاز نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آگاہی کے باعث ادویاتی پودوں کو اب لکڑی سے زیادہ قیمتی تصور کیا جارہا ہے۔
پشاور میں ہربل مارکیٹ کے قیام کا مطالبہ







