خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی ایک اور یقین دہانی

ملک کی آئینی تاریخ ایک بار پھر ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری سیاسی بحث میں عوامی نیشنل پارٹی کی مشروط حمایت نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔ اے این پی نے واضح کیا ہے کہ اس کی حمایت کسی شخصیت ادارے یا طاقت کے مرکز کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف عوامی مفاد صوبائی حقوق اور وفاقی توازن کے لیے مشروط ہو سکتی ہے۔ یہ موقف نہ صرف پارٹی کی تاریخی سیاست کا تسلسل ہے بلکہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ آئین کا اصل مقصد طاقت کی مرکزیت نہیں بلکہ وفاقی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔اے این پی نے 28 ویں ترمیم کی حمایت کو 27ویں ترمیم کے وعدوں کی پاسداری سے مشروط کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ گزشتہ ترمیم کے دوران کیے گئے وعدوں کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ بالخصوص 18 ویں ترمیم این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے تحفظات برقرار ہیں جنہیں کسی طور کمزور کرنا وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اے این پی کا یہ مطالبہ دراصل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ مرکزی سطح پر اختیارات دوبارہ سمیٹنے کی کوششیں نہ صرف سیاسی تنائو کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ترمیم کی حمایت کو توانائی کے شعبے سے جوڑتے ہوئے پارٹی نے ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبوں کے لیے بجلی میں آئینی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے صوبوں میں بجلی کے استعمال پر کوئی وفاقی ٹیکس یا سرچارج عائد نہ کیا جائے۔ اے این پی کا موقف ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبوں کو ان کے وسائل کا مناسب فائدہ ملنا چاہیے۔ مزید یہ کہ انہوں نے گھریلو صارفین کے لیے 500 یونٹس تک بجلی 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جو مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے یقینی طور پر ایک بڑا ریلیف ہو سکتا ہے۔اسی طرح تمباکو پیدا کرنے والے علاقوں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے اے این پی نے مطالبہ کیا کہ تمباکو کاشت کاروں پر تمام ٹیکس ختم کیے جائیںاور خام تمباکو پر صنعتوں سے وصول ہونے والا مکمل ٹیکس اسی صوبے کو واپس کیا جائے جہاں یہ فصل پیدا ہوتی ہے۔ یہ مطالبات اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ پیداواری صوبوں کو ان کے وسائل کا مکمل حصہ نہ ملنے کی وجہ سے مقامی معیشتیں کمزور رہتی ہیں اور کسانوں کا استحصال بڑھتا ہے۔اے این پی نے 28 ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے مستقل قیا م کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ آرٹیکل 140A کے تحت ہر چار سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ صرف جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرتا ہے بلکہ اختیارات نیچے منتقل ہونے سے عوام کو براہ راست فیصلہ سازی میں حصہ ملتا ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی انتظامی اتھارٹی کو بلدیاتی اداروں کو معطل یا تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے جو یقینی طور پر آئینی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔اے این پی کا سب سے اہم مطالبہ صوبے کی تاریخی شناخت کی بحالی ہے۔ پارٹی نے پختونخوا کے نام کی دوبارہ منظوری کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی ثقافتی و تاریخی شناخت کا احترام کرنا وفاقی وحدت کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرتا ہے۔ اس مطالبے کے پیچھے سیاسی جذبات کے ساتھ ساتھ اس تاریخی ناانصافی کا احساس بھی موجود ہے جو دہائیوں تک پختون آبادی کو درپیش رہی۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اے این پی کی مشروط حمایت صوبائی حقوق کے تحفظ اور وفاقی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک اہم سیاسی دبا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر وفاق ان تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور صوبوں کے حقوق کو آئینی ضمانت فراہم کرے تو یہ نہ صرف سیاسی کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد سازی کا ایک مضبوط ذریعہ بھی بنے گا۔ موجودہ حالات میں یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو آئینی توازن معاشی استحکام اور حقیقی جمہوریت کی طرف لے جا سکتا ہے۔md.daud78@gmail.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed