اٹارنی جنرل آفس کی 5 ہزار سے زائد مقدمات کی پیروی

شعیب جمیل

اٹارنی جنرل آفس خیبرپختونخوا کے لاآفیسرز نے تقریبا 2سال کے عرصے میں پشاور ہائیکورٹ میں5000سے زائد مقدمات کی پیروی کی جن میں بیشتر وفاقی حکومت کے حق میں فیصلہ ہوگئے ہیں ، اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنااللہ نے 1880مقدمات کی خود پیروی کی اوران مقدمات میں پیش ہوئے۔ اس ضمن میں اٹارنی جنرل آفس خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے 19اگست 2022سے 31مئی 2024تک کل 5384مقدمات نمٹائے جن میں اٹارنی جنرل آفس پشاور کے لاآفیسرز نے ان مقدمات کی پیروی کی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنااللہ نے سب سے زیادہ1880مقدمات کی پیروی کی جن میں بیشتر وفاقی حکومت کے حق میں فیصلہ ہوئے ہیں۔ اسی طرح ڈپٹی اٹارنی جنرل حضرت سید نے 473مقدمات،ڈپٹی اٹارنی جنرل عبیداللہ انور نے 397، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پشاور دولت خان مہمند نے 334،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل دانیال خان 333،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل الطاف احمد نے 291جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راحت علی نحقی نے 136کیسز کی پیروی کی۔ راحت علی نحقی ایڈوکیٹ کو 20جنوری 2024کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنااللہ نے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس خیبرپختونخوا کے ان لاآفیسرز نے پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادکے کیسز سمیت دیگرحساس اور مختلف نوعیت کے کیسز میںفیڈریشن اوروفاقی اداروں کی نمائندگی کی جن میں بیشتر مقدمات کا فیصلہ حکومت کے حق میں ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ محدود وسائل اور لاآفیسرز کی کمی کے باوجود وہ تمام مقدمات میں وفاقی کی نمائندگی اور پیروی کررہے ہیں تاکہ ان مقدمات کو فوری نمٹایاجاسکے اور لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرناپڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed