وفاق اور خیبر پختونخوا کی بجلی چوری پر بات کرنے پر آمادگی

وفاق کے خط کے جواب میں خیبر پختونخوا حکومت نے بجلی چوری کے معاملے پر وفاق سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ۔ اس حوالے سے صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ بجلی چوری وفاقی حکومت کی نااہلی ہے تاہم بجلی چوری کے معاملے پر وفاق سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے بجلی چوری کے معاملات پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ مگراس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بجلی چوری وفاقی حکومت کی نااہلی ہے تاہم وفاقی وزیر کا اپنی نااہلی چھپانے کیلئے کے پی حکومت پرالزم لگانا غیرمناسب ہے۔ بجلی چوری ختم کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے لیکن لگتا ہے کہ اویس لغاری کو اپنی ذمہ داریوں کا علم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بیان انہوں نے وزیر وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو لکھے گئے خط کے جواب میں جاری کیا ہے ۔ مشیر اطلاعات کاموقف ہے کہ بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات ادا کرنیکے بجائے ہم پر الزامات لگائے جائے رہے ہیں جب کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا پہلے ہی تجویز دے چکے ہیں کہ ہمارے بقایات بجلی بلز میں ایڈجسٹ کیے جائیں۔قبل ازیں وفاقی وزیر کی جانب سے صوبائی حکومت کولکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پیسکو اور ٹیسکو میں بجلی نقصانات کا تخمینہ 188 ارب روپے ہے۔پاور ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر کی وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے ملاقات کا مقصد مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے بجلی چوری روکنے پر غور کرنا ہے۔وفاقی وزیر توانائی نے پاور سیکٹر کو معیشت خرابی کی وجہ قرار دے دیاخط میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس کی مدد سے بجلی چوری کے خلاف مہم کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر پاور کے خط میں وزیراعلی سے کہا گیا کہ کے پی میں آپریٹ کرنے والی پیسکو اور ٹیسکو خراب کارکردگی والی ڈسکوز میں شامل ہیں، رواں مالی سال کیلئے پیسکو اور ٹیسکو کے نقصانات کا تخمینہ 188 ارب روپے لگایا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ٹیسکو کے علاقوں میں ریکوری کیلئے صوبائی حکومت جامع پلان مرتب کرے۔ دوسرا ممکنہ حل یہ ہے کہ صوبائی حکومت ٹیسکو کے علاقوں میں پاور سپلائی کا بیڑا اٹھالے۔ وفاق و صوبے کے درمیان بجلی چوری کو روکنے کے معاملے پر رابطہ اچھی بات ہے تاہم یہاں پر ایک احتیاط کی ضرورت ہے تا کہ جب بھی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا جائے تو شروعات کارخانہ داروں سے کی جائے۔ اس کے بعد عام شہریوں پر ہاتھ ڈالا جائے جن کی بجلی چوری کے باعث ان کے بل عام شہری ادا کر ادا کر تے ہیں ۔یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بجلی کمپنیاں لائن لاسز کم کرنے کیلئے یونٹ ڈویژن اور پھر فیڈرز پر تقسیم کر دیتے ہیں ۔ اس لئے حکمرانوں نے بجلی چوری حقیقی معنوں روکنی ہے تو پھر ان کو حقیقی چوروں پر ہاتھ ڈالنا ہو گا اور لائن لاسز کے ذمہ داروں سے ہی بجلی کے بل وصول کرنا ہو ں گے ۔عجب تماشہ ہے کہ پہلے شہریوں کو مہنگی بجلی فروخت کی جاتی ہے اس کے بعد انہیں اضافی یونٹ بھجوائے جاتے ہیں اور جب شہری یہ ظالمانہ بل مجبوری کی وجہ سے جمع نہیں کر پاتے تو ان کے میٹر کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے جب یہ حکومتیں بجلی چور وں کے خلاف آپریشن کرنے پر متفق ہو جائیں تو پھر معمولی ڈیفالٹر زاور چوروں میں فرق کیا جائے تاکہ جو شہری سرکای خزانے میں اتنے ظالموں ٹیکسوں کے باوجود پیسے جمع کرنے کے خواہش مند ہیں ان کی دل آزار ی نہ ہو اور عام شہریوں سے یہ بل آسان اقساط میں وصول کئے جائیں ۔ امید ہے کہ جہاں یہ حکمران باہمی اتفاق سے حقیقی بجلی چوروں کے خلاف آپریشن کریں گے وہاں ان تمام نکات پر بھی غور فرمائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حسب سابق اصل چور بچ نکلیںاور حکمران سارا نزلہ غربا ء پر گرا چلتے بنیں جیسا ابھی تک کیا جاتا رہا ہے ۔ اس لئے صوبائی اور وفاقی وزراء اس بار جبکہ قومی خزانہ بھر نے کی اشد ضرورت ہے انصاف کے تمام تقاضے پورے کر تے ہوئے اصل بجلی چوروں کا تعاقب کریں گے جو ملک بھر میں لائن لاسز کے ذمہ دارہیں ۔ اس حوالے سے خصوصی طور وفاقی وزیر اویس لغاری کو صرف پختونخوا پر چوری کا الزام نہیں لگاناچاہیے بلکہ سندھ و پنجاب کے اعداد شمار بھی سامنے لانے چاہئیں جہاں سب سے زیادہ کارخانے موجود ہیں جن کی اکثر یت بجلی چوری میں ملوث ہے ۔ md.daud78@gmial.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed