کور کمانڈرز کانفرنس کا مسلح افواج کے خلاف منفی پروپیگنڈا پر سخت کارروائی پر اتفاق

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کور کمانڈرز کانفرنس میں ہدایت دی ہے کہ دہشتگردوں کو کسی بھی جگہ سے فعال نہ ہونے دیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 264ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں فورم کو بریفنگ دی گئی کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

فورم کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ پاکستان اور اس کے اقتصادی مفادات کے خلاف بطور پراکسی کام کررہےہیں، یہ دہشت گر د گروہ بالخصوص سی پیک کے خلاف پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

آرمی چیف نے کور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ دہشتگردوں کو کسی بھی جگہ سے فعال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے اور مسلح افواج پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو مستقل ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

فورم نے غیر قانونی طور پرمقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور نسل کشی کی مذمت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر بھی اظہارتشویش کیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اگر فریقین نے کشیدگی فوری کم نہ کی تو ایک وسیع علاقائی تنازع جنم لے سکتا ہے۔

کورکمانڈرز کانفرنس نے مسلح افواج کی حوصلہ شکنی کے لیے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم پر بھی تشویش کا اظہار  کیا اور فورم نے کہا کہ مسلح افواج کے خلاف بےبنیادالزامات کامقصدعوام اورمسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے۔

شرکائے کانفرنس نے کہا کہ ہم عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ  ڈالنے کی کوششوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے، بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم کے خلاف قانون اور آئین کے مطابق سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

فورم نے پائیدارسماجی واقتصادی ترقی کےحصول کیے لیے حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کے خلاف اور غیرقانونی تارکین کی محفوظ وطن واپسی کےلیے بھرپورتعاون فراہم کرنے کاعزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed